2 دسمبر 2016 - 19:18
سعودی عرب نے اپنے قرضے کی رقم کو فاش کر دیا

سعودی عرب کی حکومت نے اوپک (OPEC)کے ممبران کیطرف سے تولیدات میں کمی لانے پر اتفاق کرنے کے باوجود اپنی اقتصادی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعتراف کرلیا کہ وہ 910ارب ڈالر کی مقروض ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کی حکومت نے اوپک (OPEC)کے ممبران کیطرف سے تولیدات میں کمی لانے پر اتفاق کرنے کے باوجود اپنی اقتصادی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعتراف کرلیا کہ وہ  910ارب ڈالر کی مقروض ہے۔

سعودی وزارت خزانہ نے جمعرات کو اعلان کردیا کہ رواں سال کے مئی اور اکتوبر کے مہینوں میں 27ارب ڈالر کے معادل سے زائد کے لون یا لون ڈیڈ چھپائے ہیں۔

اسی سلسلے میں اقتصادی اور اعتبار سنجی ادارے "فیچ" نے سعودی عرب پر بڑھتی اقتصادی مشکلات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہےکہ : سادہ اقدامات ، نجکاری اور ٹیکس سے ملکی حالات سنبھالنے کیلئے موزوں نہیں ہیں۔

اس تحلیلی ادارے "فیچ" کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ : سعودی عرب کو اسوقت متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کے مالی اور بینکی بحران سے بھی بہت زیادہ بڑے بحران کا سامنا ہے اور حکومتی سرمایہ گذاری میں کمی آنے سے ملکی اقتصادی پیشرفت میں بھی کمزوری پیدا ہو گی۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے: اعتبار سنجی اداروں کے مطابق سعودی عرب کی اقتصادی ترقی میں کمی آ چکی ہے اور 80 سے 90  ارب ڈالر تک کا خسارہ یقینی ہو چکا ہے۔یہ سب ایسے حالات میں ہے کہ  عالمی منڈی میں خام  تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کے منفی اثرات ان ملکوں پر اثرانداز ہوئے ہیں کہ جن کے اقتصاد کا انحصار خام تیل کی برآمدات پر ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو 2014 کے اواسط سے شروع ہوا، خلیج فارس ممالک کو ایسی تدبیر کرنا ہوگی جس سے وہ  گرتی قیمتوں کا مقابلہ کرسکیں۔

سعودی عرب کی طرف سے یمن پر چڑھائی سے مالی بحران پیش آيا ہے،اب سعودی عرب مجبور ہو گیا ہے کہ اخراجات میں کمی، بجٹ میں کٹوتی، اور حکومتی وزیروں کی تنخواہوں میں بھی کمی لاکر بچت کرے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲